تیونس: رمضان میں کھانے پینے والوں کی سزا پر تنازع

تیونس میں رمضان کے دوران دن کے اوقات میں اعلانیہ کھانے پینے کے الزام میں 4 افراد کو ایک ماہ کی قید کے فیصلے نے ملک میں قانونی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک سزا کا یہ فیصلہ آئین کی خلاف ورزی ہے جو افراد کی شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جب کہ بعض حلقوں کی رائے اس کے برعکس ہے۔

تیونس کے صوبے بنزرت میں عدالت نے گزشتہ روز جمعرات کو 4 افراد کو ایک ماہ جیل کی سزا سنائی تھی کیوں کہ وہ رمضان کے دوران دن کے وقت ایک عوامی پارک میں اعلانیہ صورت میں کھاتے پیتے نظر آئے تھے۔ یہ فیصلہ پارک کے نزدیک رہائشی شہریوں کی جانب سے دائر کی جانے والی شکایت کے نتیجے میں سامنے آیا۔

عدالت میں استغاثہ کے وکیل کا موقف تھا کہ چاروں ملزمان نے عوامی پارک میں کھانے پینے کے علاوہ سگریٹ نوشی بھی کی جو ایک اشتعال انگیز عمل ہے۔

تیونس کا قانون رمضان میں دن کے اوقات میں کھانے پینے سے نہیں روکتا۔ اگرچہ آئین کے پہلے آرٹیکل میں واضح طور پر تحریر ہے کہ "ریاست کا مذہب اسلام ہے”۔ ریاست ہر سال کئی قہوہ خانوں اور ریستورانوں کو اجازت دیتی ہے کہ وہ رمضان میں اپنے گاہکوں کو خدمات پیش کریں تاہم اس شرط کے ساتھ کہ یہ مراکز اپنے بیرونی دروازوں کو بند رکھیں تا کہ مشروبات اور کھانے کی اشیاء باہر سے نظر نہ آئیں۔

تیونس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے گروپ میں شامل "انفرادی آزادی کی خاطر شہری اتحاد” نے باور کرایا ہے کہ.. "حراست اور جیل کا فیصلہ ” مشترکہ رہن سہن کی اقدار کا انکار ہے۔ یہ عمل تیونس کے سماجی نمونے کے لیے بالخصوص آئین میں موجود معاشرتی آزادی کے حوالے سے خطرہ ہے”۔
اسی سلسلے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں پایا جاتا جو رمضان میں دن کے وقت کھانے پینے کو جرم قرار دے لہذا حکام کو ایسی صورت میں جیل کی سزا کے بجائے زبانی تنبیہہ کرنا چاہیے کیوں کہ بہرکیف کھانا پینا ذاتی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔

دوسری جانب کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ "کھانے پینے پر قانون کی کوئی سزا نہیں ہے مگر لوگوں کے سامنے اعلانیہ طور پر عام شاہراہوں اور عوامی مقامات پر کھانے پینے پر اصرار روزے دار کے جذبات کو مشتعل کرتا ہے۔ اس پر قاضی مداخلت کر کے معاشرے پر ان افعال کے خطرے کے پیشِ نظر قانون کی تاویل کے ذریعے مرتکب عناصر کو سزا دے سکتا ہے”۔

اس حوالے سے ایک خاتونِ خانہ زبیدہ الحاجی نے کہا کہ "جس کسی کو بھی کھانا پینا ہو تو وہ یہ کام اپنے گھر میں یا ریاست کی جانب سے مخصوص مقامات پر کرے نہ کہ عوامی مقامات پر لوگوں کے سامنے۔ اخلاقی لحاظ سے یہ نامناسب بات ہے.. تیونس ایک مسلمان ریاست ہے اور اکثریت کے عقائد کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ سزا درست ہے تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں”۔

About BBC RECORD

Check Also

دبئی کے حاکم نے اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا

Share this on WhatsAppابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں دبئی کے امریکہ و اسرائیل نواز ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے