FILE PHOTO - United States Ambassador to the United Nations Nikki Haley delivers remarks at the Security Council meeting on the situation in Syria at the United Nations Headquarters, in New York, U.S, April 7, 2017. REUTERS/Stephanie Keith/File Photo TPX IMAGES OF THE DAY

شام میں جنگ بندی کے لیے روس پر دباؤ ڈالنے کا امریکی مطالبہ

امریکا نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے دیرینہ حلیف روس پر شام میں جنگ بندی اور امدادی کارروائیوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن حد تک دباؤ ڈالے۔

بی بی سی ریکارڈ کے مطابق سلامتی کونسل کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی خصوصی مندوبہ نکی ہیلی نے کہا کہ ’شام میں جنگ بندی ناگزیر ہوچکی ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہےکہ عالمی برادری روس پر شام میں دیر پا جنگ بندی کے قیام کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالے تاکہ خون خرابہ روکنے کے ساتھ ساتھ جنگ سے محصور ہونے والے شہریوں تک امداد پہنچائی جاسکے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر روس چاہے تو شام میں جنگ بندی کراسکتا ہے۔

امریکی سفیرہ کا کہنا تھا کہ شام میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی کوئی ملک حمایت نہیں کرتا۔ سلامتی کونسل کا کون سا رکن ملک شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے اور شام میں انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ میں امدادی شعبے کے نگران اسٹیفن اوبرائن نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی ساتویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور ہرآنے والے دن انسانی حقوق کی پامالیوں اور انسانی المیے میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے مشرقی الغوطہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسدی فوج نے الغوطہ میں 4 لاکھ عام شہریوں کو محصور بنا رکھا ہے۔

’یو این‘ اہلکار کا کہنا تھا کہ مشرقی الغوطہ میں گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اب تک امدادی قافلوں کی رسائی رکی ہوئی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے سفیر فرانسو دولاٹر نے شام کی صورت حال کو انتہائی دردناک قرار دیا۔ انہوں نے شام میں فوری اور وسیع تر جنگ بندی کے قیام کے امریکی مطالبے کی حمایت کی۔

دوسری جانب سلامتی کونسل میں روس کے قائم مقام مندوب پیٹر الیٹچیف نے کہا کہ مجموعی طور پر شام میں جنگ بندی ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد رجیم کے خلاف بلا جواز تنقید اور معاملے کو زیدہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے ترکی، روس اور ایران ملک کر کام کررہے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی صدر بننے پر جو بائیڈن کو عالمی رہنماوں کی مبارک باد

Share this on WhatsAppدنیا بھر کے سربراہان مملکت کو امید ہے کہ نئے امریکی صدر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے