Russian President Vladimir Putin (L) shakes hands with his Turkish counterpart Tayyip Erdogan during a meeting at the Kremlin in Moscow, Russia, March 10, 2017. REUTERS/Sergei Ilnitsky/Pool

‘شام میں فوجی آپریشنز، ترکی اور روس مکمل رابطے میں ہیں‘

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس اور ترکی کی مشترکہ کوششوں سے شام میں تباہ کن جنگ ختم ہوئی۔ شامی اپوزیشن اور حکومت کےدرمیان فائر بندی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ جب کہ ترکی کے صدر طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ شام میں مختلف مقامات پر جاری فوجی آپریشنز اور امدادی کارروائیوں میں ماسکو اور انقرہ مکمل رابطے میں ہیں۔
بی بی سی ریکارڈ لند ن کے مطابق دونوں رہ نماؤں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں دوست ملک دہشت گردی کے خلاف مل کر جنگ لڑ رہے ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ ترکی اور روس دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک دوسرے کو انٹیلی جنس تعاون فراہم کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے شہریوں پر ویزوں کی پابندی جلد ہی ختم کردی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں صدر پوتن نے کہا کہ وہ شام میں محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ شام میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف جاری آپریشن میں ترکی اور روس مکمل طور پر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں صدر ایردوآن نے کہ شام کے شہر منبج میں صرف ترک فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ منبج میں فوجی آپریشن کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم عالمی فوجی اتحاد کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
عراق میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ موصل میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کے نتیجے میں دہشت گردی کا خطرہ بدستور برقرار رہے گا۔
خیال رہے کہ شام کے ایشو پر ترک صدر اور ان کے روسی ہم منصب کی یہ چھٹی ملاقات ہے۔
ترکی کے ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پوتن اور ایردوآن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شام کا معاملہ سر فہرست رہا ہے۔
اسی اثناء میں شامی رجیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی کو شام میں موجود اپنی فوجیں واپس بلانے کا پابند بنائے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق شامی فوج چار سال کے بعد پہلی بار دریائے فرات کے کنارے تک رسائی میں کامیاب ہوئی ہے۔
روسی فوج کے ایک عہدیدار سیرگی روڈوسکوی نے ایک بیان میں کہا کہ شامی فوج دریائے فرات کے کنارے اقع الخفسہ گاؤں اور اس کے اطراف میں پندرہ کلو میٹر کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ شامی فوج دریائے فرات کے مغربی کنارے میں داعش کے خلاف مسلسل پیش قدمی کررہی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکا غنڈہ گردی بند کرے ورنہ جوابی کارروائی کریں گے، چین

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ بیجنگ چین نے ٹک ٹاک اور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے