ٹرمپ کا اوباما پر فون کالز ٹیپ کرنے کا دعویٰ، اوباما کی تردید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کے منتخب ہونے سے ایک ماہ قبل ان کی فون کالز ٹیپ کی تھیں۔
ہفتے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹر‘ پرپوسٹ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’افسوس ناک! ابھی معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں میری جیت سے ایک ماہ قبل میرا ’فون ٹیپ کیا‘۔ کچھ نہیں ملا، یہ مشتبہ کارروائی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل عدالت نے فون ٹیپ کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
تاہم امریکی صدر نے اپنے اس دعویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں یا انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کس عدالتی فیصلے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
چند ہفتے قبل بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے غیر ملکی خفیہ نگرانی کی عدالت سے گذشتہ سال وارنٹ طلب کیے تھے تاکہ ٹرمپ ٹیم میں شامل بعض ارکان کے مشتبہ طور پر روسی حکام کے ساتھ روابط کی نگرانی کی جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے تو وارنٹ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں اکتوبر میں اسے منظور کر لیا گیا تھا۔
اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا بعد میں اسے مکمل تحقیقات میں تبدیل کیا گیا تھا۔
اوباما کے ترجمان کیون لوئس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ کا یہ اصول تھا کہ ان کی انتظامیہ کا کوئی بھی شخص کسی بھی عدالتی تفتیش میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔

اس بیان میں بظاہر اس بات کی گنجائش چھوڑ دی گئی ہے کہ ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کی عدالتی تفتیش کی جا رہی تھی۔
فون کالز ٹیپ کرنے کے الزام کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
سابق صدر اوباما کے ترجمان کیون لوئس کا کہنا تھا کہ نہ تو صدر اوباما اور نہ ہی ان کی انتظامیہ کے کسی اہکار نے کبھی کسی امریکی شہری خفیہ نگرانی کا کوئی حکم جاری کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ ’ایک اچھا وکیل اس معلومات سے مقدمہ بنا سکتے ہیں کہ سابق صدر اوباما اکتوبر میں انتخاب سے قبل فون ٹیپ کر رہے تھے۔‘

خیال رہے کہ اس قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریپبلکن سیاستدانوں کے خلاف احتجاج اور قومی راز افشا ہونے کے پیچھے سابق صدر براک اوباما کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اوباما ہیں کیونکہ ان کے لوگ یقیناً اس کے پیچھے ہیں۔‘
باراک اوراوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ شروع سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اوباما امریکا میں پیدا نہیں ہوئے۔ اس لیے وہ منصب صدارت کے اہل نہیں ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو پھیلا رہے ہیں؛ نینسی پلوسی

Share this on WhatsAppامریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے عالمی ادارہ صحت سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے