سابق فوجی صدر پرویز مشرف ٹی وی تجزیہ کار بن گئے

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اردو داں طبقے کو اپنے بلند پایہ افکارِ عالیہ سے مستفید کرنا شروع کردیا ہے اور وہ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے تجزیہ کار بن گئے ہیں۔
بول ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اتوار کی شب ان کا ہفتہ وار ٹی وی پروگرام نشر کرنا شروع کیا ہے اور ان کا پہلا پروگرام اتوار 26 فروری کی شب آٹھ بجے نشر ہوا ہے۔ان کے پروگرام کا نام ’’ سب سے پہلے پاکستان پرویز مشرف کے ساتھ‘‘ ہے۔اس میں وہ ایک ٹی وی اینکر کے پاکستان سے سوالوں کے دبئی سے جواب دیتے ہیں جہاں وہ ملک سے علاج کے نام پر فرار ہوکر خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
بول ٹی وی کے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کیے گئے پرومو میں پرویز مشرف کو بڑا تقدس مآب بنا کر پیش کیا گیا ہے اور ان کی ذات شریف میں وہ خوبیاں بھی گنوائی گئی ہیں جو ان کے موجودہ کردار سے کوئی لگا نہیں کھاتی ہیں۔انھیں بہادر ،دلیر اور نڈر قرار دیا گیا ہے لیکن وہ پاکستان میں عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے کے بجائے دبئی میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے مارچ 2016ء میں پرویز مشرف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی اور اس نے یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے ان کے بیرون ملک جانے پر عاید پابندی ختم کیے جانے کے بعد کیا تھا۔
سابق آرمی چیف اور فوجی صدر کے خلاف 2007ء میں ملکی آئین کو معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے پر سنگین بغاوت کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ ان کے خلاف لال مسجد آپریشن اور بلوچستان میں سابق وزیراعلیٰ اور گورنر نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاکت پر مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پرویز مشرف کو آٹھ دسمبر 2016ء کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو زیر حراست رکھنے کے کیس میں پیش ہونے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی۔عدالت نے خبردار کیا تھا کہ اگر سابق فوجی حکمراں عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انھیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔اس ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اسی کیس میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔
ان کی اس نئی سرگرمی کے حوالے سے قارئین اور ناظرین نے دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔ایک قاری نے لکھا ہے کہ ’’ سب سے پہلے پاکستان کا یہ تقاضا ہے کہ پرویز مشرف ملکی آئین کا احترام کریں اور ایک قانون پسند شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے وطن واپس آکر اپنے خلاف کیسوں کا عدالتوں میں سامنا کریں‘‘۔
ایک اور قاری نے لکھا:’’اس طرح کے پروگرام کے ذریعے پرویز مشرف کو تقدس مآب بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ انھوں نے ماضی میں جو غلطیاں کیں اور ملک کو جو نقصان پہنچایا،قوم اس کو بھول جائے اور انھیں ایک اور مقدس شخصیت کے طور پر قبول کر لے‘‘۔
بعض قارئین نے ان کے حق میں بھی لکھا ہے اور انھیں ملک کا ایک بہتر حکمراں قرار دیا ہے لیکن زیادہ تر نے ان کے خلاف ہی لکھا ہے اور انھیں پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ ایک عشرے سے جاری دہشت گردی کی لہر ،بم دھماکوں ،تباہ کاریوں اور گوناگوں مسائل کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

Share this on WhatsAppاسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 4 روزہ دورے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے