قدُس فورس سے متعلق ایرانی دہشت گرد عراق میں سفیر مقرر

ایران نے پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم "قدس فورس” کے کمانڈر کے مشیر اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل بریگیڈیئر جنرل ايرج مسجدی کو عراق میں اپنا سفیر مقرر کیا ہے۔ مسجدی بغداد میں تہران کے موجودہ سفیر حسن دانائی کی جگہ لیں گے۔
روزنامہ "عصر ايران” کے مطابق بریگیڈیئر جنرل مسجدی کا تقرر جنرل قاسم سليمانی (قدس فورس کے کمانڈر) اور وزير خارجہ محمد جواد ظريف کے درمیان اتفاق رائے سے عمل میں آیا ہے۔
پاسداران انقلاب بغداد میں ایرانی سفارت خانے کو خطے میں ایرانی رسوخ کے پھیلاؤ کے حوالے سے تزویراتی اہمیت کا حامل شمار کرتے ہیں۔ 2003ء میں صدام حکومت کے سقوط کے بعد سے بغداد میں تمام ایرانی سفیروں کا تعلق پاسداران انقلاب سے رہا ہے۔
مسجدی کو جو قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے مشیر اعلی کے طور پر کام کر رہا ہے.. گزشتہ برس مئی میں دیے جانے والے ایک بیان کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ "فلوجہ کے معرکے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا اپنے افسران سمیت داخل ہونے کا مقصد یہ تھا کہ ایران دنیا بھر میں شیعیت کا مرکز باقی رہے۔ ہم اس شرکت کو ایران اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے طور شمار کرتے ہیں”۔
قدس فورس نے بشار الاسد کو بچایا
گزشتہ برس مئی میں ہی دیے گئے بیان میں بریگیڈیئر جنرل مسجدی نے بشار الاسد کی حکومت بچانے میں قدس فورس کے کردار کا انکشاف کیا۔ مسجدی کا کہنا تھا کہ ” اگر آخری لمحات میں قدس فورس مداخلت نہ کرتی تو شامی اپوزیشن کے ہاتھوں بشار الاسد کا سقوط ہو جاتا۔ اس لیے کہ مسلح شامی اپوزیشن نے دمشق اور اس کے نواح میں اکثر علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا”۔
ایرانی قدس فورس کے کمانڈر کے مشیر کے مطابق ” شام میں تمام مسلح گروپ ایک مقصد پر اکٹھے ہو گئے اور وہ ہے شام میں شیعیت ، شیعوں اور علویوں کا خاتمہ”۔
یہ وہ ہی پروپیگنڈا ہے جو ایران اور اس کے حلیفوں نے شامی اپوزیشن کو شدت پسند ظاہر کرنے کے لیے اپنایا۔
ایران کے لیے بشار کی بقاء کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مسجدی نے کہا کہ ” شامی اپوزیشن کے ہاتھوں دمشق میں بشار حکومت کے سقوط کے نتیجے میں ایران اور حزب اللہ کے درمیان ربط ختم ہو سکتا تھا۔ اس صورت میں ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اللہ کی پوزیشن بہت ہی کمزور ہو جائے گی اور لبنان میں اس کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا”۔
پاسداران انقلاب کے اس رہ نما کا بطور ایرانی سفیر بغداد میں تقرر.. دمشق میں جواد ترک آبادی کے ایرانی سفیر کے طور تعینات کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔

مختلف ممالک میں ایرانی سفیروں کے تقرر کی ذمے داری ایرانی پاسداران انقلاب ، وزارت خارجہ اور وزارت انٹیلی جنس نے باہمی طور پر تقسیم کر رکھی ہے جب کہ پاسداران کے نزدیک عراق ، لبنان ، شام اور یمن میں ایرانی مداخلت میں پاسداران انقلاب کے کردار کے پیشِ نظر ان چار ممالک میں ایران کے سفیر کا تقرر اُس کا حق ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

یمن: نہم میں حوثیوں کے ڈیتھ بریگیڈ کا سربراہ ہلاک ، بقیہ عناصر نے ہتھیار ڈال دیے

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ یمن دارالحکومت صنعاء کے مشرق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے