کبھی سکول نہ جانے والا شخص پاکستان کا صدر کیسے بن گیا

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے انکشاف کیا ہے کہ” وہ کبھی اسکول نہیں گئے ۔ اس لیے وہ اسکول کی خوشیوں کو بہت یاد کرتے ہیں۔”
اس امر کا اظہار انہوں نے کیڈٹ کالج حسن ابدال میں یوم والدین کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں کہی۔ طلبہ اور مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےطالب علموں پر زور دیا کہ وہ ملک کو درپیش چلینجز سے نمٹنے کیلئے قائد اعظم کے نقش قدم پر چلیں۔
صدر ممنون حسین کی تعلیم سے متعلقہ ان کے بیان پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیڈٹ کالج کے سابق طلبہ سے تعلقات کے عہدیدار سید محمد علی کا کہنا تھا کہ” متعدد وجوہات کی وجہ سے صدر کو گھر میں تعلیم دی گئی تھی۔”
اپنے خطاب میں صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ملک کا مستقل نوجوانوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، جو تعلیمی اور جسمانی طور پر مستحکم ہے۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی ترقی کیلئے اعلیٰ تعلیم کی جدوجہد کریں جبکہ اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ نوجوان نسل سے قوم کی بہت سی اُمیدیں وابستہ ہیں اور وہ پُر اعتماد ہیں کہ انھیں کیڈٹ کالج میں مثالی تربیت دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پورے خطے کیلئے ‘گیم چینجر’ ہوگا اور طالب علموں کو اس سے حاصل ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔صدر ممنون حسین کا مزید کہنا تھا کہ قوم پشاور کے آرمی پبلک اسکول حملے کے متاثرین کی مقروض ہے اور ان کی بہادری اور جرات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جبکہ قوم کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا کہ مستقبل میں اس قسم کی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہوسکے۔
اس موقع پر صدر ممنوں حسین نے کالج میں لگائی گئی ایک نمائش کا دورہ کیا اور ادارے کی جانب سے رکھے گئے مختلف ماڈلز کی تعریف کی۔انہوں نے کالج گراؤنڈ میں منعقدہ سالانہ پریڈ کا بھی جائزہ لیا جس میں پی ٹی اور جمناسٹک شو کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل ریٹائر میجر جنرل نجیب طارق نے کالج کے ٹریننگ پروگرام میں شامل متعدد سرگرمیوں کی نشاندہی کی اور کیڈٹس کے نتائج سے آگاہ کیا۔

About BBC RECORD

Check Also

یو این رپورٹ نے خطے کے لیے ایران کی ’اندھی سوچ’ بے نقاب کر دی: شہزادہ خالد

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ سعودی عرب نائب وزیر دفاع شہزادہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے