A wounded boy sits inside an ambulance as Syrian rebels and their families gather at the rebel-held al-Amiriyah neighbourhood as they wait to be evacuated to the government-controlled area of Ramoussa on the southern outskirts of the city on December 15, 2016. Russia, Syrian military sources and rebel officials confirmed that a new agreement had been reached after a first evacuation plan collapsed the day before amid fresh fighting. Syrian state television reported that some 4,000 rebels and their families were to be evacuated. / AFP PHOTO / KARAM AL-MASRI / ALTERNATIVE CROP

بشارالاسد کا شام میں بطور صدر کوئی مستقبل نہیں : برطانوی وزیر دفاع

برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن نے کہا ہے کہ بشارالاسد اگر جنگ زدہ شہر حلب میں حکومت مخالف جنگجوؤں پر قابو پا لیتے ہیں تو بھی ان کا شام میں بطور صدر کوئی مستقبل نہیں ہے۔
انھوں نے لندن میں جمعرات کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ”ہم شام میں صدر بشارالاسد کا کوئی مستقبل نہیں دیکھتے کیونکہ اسپتالوں پر بمباری سے کوئی فاتح نہیں بنتا اور پھر ملک کے صرف چالیس فی صد علاقے پر آپ کا کنٹرول ہو”۔
انھوں نے کہا کہ ”ہم شام میں جاری تنازعے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے”۔ وہ امریکا کی قیادت میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگی مہم میں شریک اتحادی ممالک کے اجلاس کے بعد گفتگو کررہے تھے۔
اس موقع پر امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر نے اپنے برطانوی ہم منصب کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ”سیاسی انتقال اقتدار کے ذریعے ہی شامی عوام کے مصائب کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے”۔
انھوں نے روس پر بشارالاسد کی باغی جنگجوؤں کے خلاف ”ناقابل یقین سفاکیت” کی حمایت کا الزام عاید کیا اور کہا کہ اس طرح کی سفاکیت تو ہم بھی عراق اور شام میں داعش کے خلاف بروئے نہیں لارہے ہیں اور یہ اس سے کوئی لگا نہیں کھاتی ہے۔
تاریخی لمحہ
دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ حلب میں تاریخی واقعات رونما ہورہے ہیں اور ان کے بہ قول ”حلب کی آزادی” کے بعد دنیا ایک مختلف جگہ ہوگی۔
شامی صدر کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں بشارالاسد نے کہا کہ ”آج جو کچھ رونما ہورہا ہے،وہ تاریخ رقم ہو رہی ہے اور یہ شام کا ہر شہری رقم کر رہا ہے۔اس کی لکھائی آج نہیں بلکہ چھے سال قبل شروع ہوئی تھی، جب شام میں بحران اور جنگ کا آغاز ہوا تھا”۔
حلب کی صورت حال
درایں اثناء فرانس نے حلب کی صورت حال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور اقوام متحدہ کے امدادی حکام سے کہا ہے کہ وہ حلب سے شہریوں کے انخلاء اور انھیں انسانی امداد مہیا کرنے سے متعلق امور پر سلامتی کونسل کو فوری آگاہ کریں۔
حلب کے مشرقی حصے میں عارضی جنگ بندی کے بعد شہریوں اور زخمیوں کے انخلا کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ بشارالاسد کی تاریخ رقم کرنے والی فورسز نے زخمیوں کو لے کر جانے والی گاڑیوں کے پہلے قافلے پر فائرنگ کردی ہے۔
ریڈ کراس نے حلب کے مشرقی علاقوں سے دو سو مریضوں اور زخمیوں کے انخلا کی تصدیق کی ہے اور ایک امدادی گروپ کے ترجمان نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ”حکومت نواز جنگجوؤں نے ایمبولینس گاڑیوں اور ان لوگوں پر فائرنگ کی ہے جو شاہراہیں کھول رہے ہیں۔اس سےایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں”۔شامی حکومت کے ایک عہدہ دار کا کہنا ہے کہ پہلے قافلے میں حلب سے 951 افراد کو نکالا گیا ہے

About BBC RECORD

Check Also

کوئٹہ صدیق اکبر ریلی میں دھماکہ 22 افراد جانبحق 35 زخمی

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندب نیوز ؛ کوئٹہ پریس کلب کے قریب ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے