بھارت ملکہ پور فسادات میں ابتک تین سو؍ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں،

بھارت ملکہ پور،بلڈھانہ مہاراشٹرا کے ضلع بلڈھانہ کے ملکہ پور شہر میں عید میلادالنبی ﷺ کے جلوس کے موقع پر پھوٹ پڑھنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں ابتک تین سو سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور کرفیو لگانے کے باوجود مسلم املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے جس کی شکایت جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے سابق اقلیتی امور وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی عارف نسیم خان سے کی اور اُنہیں ملکہ پور کے حالات سے باخبر کرایا، جس کے بعد انہوں نے وزیر اعلی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ۔

بی بی سی ریکارڈ کی رپورٹ کے مطابق میلاد النبی کے جلوس کے موقع پر حالات اُس وقت خراب ہوگئے تھے جب چند شرپسندوں نے جلوس پر پتھرائو کیا، بعد میں دونوں طرف سے جم کر سنگ باری ہوئی، پولس نے حالات پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے بعد میں ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے عوام کو منتشر کیا گیا، حالات کو بگڑتا دیکھ کر بعد میں یہاں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ پتھرائو کے نتیجے میں آٹھ پولس اہلکاروں سمیت 18لوگ زخمی ہوئے ہیں جس میں ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولس راجیندر سولنکے بھی شامل ہیں۔ اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ زخمیوں میں آصف شیخ اور ساجد شیخ کی حالت کافی نازک ہے۔ جھڑپوں میں دو موٹر بائک سمیت کئی دکانوں کوبھی نذر آتش کرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ کئی دکانوں میں توڑپھوڑ بھی کی گئی ہے۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ انہیں آج شام ملکہ پور جمعیۃ علماء کے خادم نجم راشدی کا ٹیلی فون موصول ہوا تھا جنہوں نے ملکہ پور شہر کے حالات سے باخبر کرایا جس کے بعد انہوں نے عارف نسیم خان سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کی توجہ ملکہ پور میں ہوئے فسادات کی طرف کرائی۔ جس کے بعد نسیم خان نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی مہاراشٹر دیوندر فڑنویس سے گفتگو کرتے ہوئے اُن سے گذارش کی کہ وہ مسلم نوجوانوں کی بے جا گرفتاریوں پر فوراً روک لگانے کے احکامات جاری کرے اور حالات کو جلداز جلد قابو میں کرنے کے لیئے اعلی پولس حکام کو ہدایت دیں ۔

عارف نسیم خان نے ایس پی باگسکر اور آئی جی ماتھور سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ان سے مسلم نوجوانوں کی بے جا گرفتاریوں پر فوری پر روک لگانے اور اصلی خاطیوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ عید میلادالنبی ﷺ سے ایک روز قبل ملکہ پور کے ایک غیر مسلم لڑکے نے حضور ﷺ اور حضرت فاطمہؓ کی شان میں گستاخی کی تھی جس کے بعد سے ہی شہر کا ماحول خراب تھا اس پر یہ کہ جلوس عید میلاد النبی ﷺ کے لئے روایتی راستوں کی پولس نے اجازت نہیں دی تھی اور ۲۵؍ ہزار افراد کے جلوس کے لیئے صرف ۷۰؍ پولس والوں کا بندوبست کیا گیا تھا جس کی وجہ سے دوران جلوس شرکاء جلوس پر پتھراؤ کیا گیا جس کے بعد مسلم نوجوانوں نے بھی اپنے بچاؤ میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے پتھر اؤ کیا جس کی وجہ سے ماحول خراب ہوتا گیا ۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ ایسے حالات میں امن قائم کرنے کے بجائے مقامی بی جے پی ایم ایل اے نے فرقہ پرستوں کی پست پناہی کی، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے، جس پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہے ۔

About BBC RECORD

Check Also

سعودی عرب سے افغانستان منتقل ہونے والا طالبان کمانڈر گرفتار

Share this on WhatsAppکابل؛ تحریک طالبان اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک کے درمیان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے