قانون کی حکمرانی

تحریر: اے ڈی شاہد :
………………………………………………………………………………………………………..
ارسطو کا قول ہے کہ طبقاتی معاشرے میں قانون مکڑی کے جالے کی مانند ہوتا ہے کمزور اس میں پھنس جاتے ہیں اور طاقتور اسکو توڑ کر نکل جاتے ہیں جوں جوں انسانی تہذیب نے ترقی کی قانون کی بالادستی اور انصاف کا حصول ہر ایک کے لئے یکساں طور پر ممکن بنانے کی جدوجہد ہی کا نام ہے۔ تہذیب کاارتقاء انصاف کا حصول ممکن بنانے کی جدوجہد ہی کا دوسرا نام ہے ۔ انسانی تہذیب کی ابتداء ہی سے قانون کا وجود پایا جانا ا س بات کی دلیل ہے کہ انسا ن ہزاروں سال پہلے ہی سے منصوبہ بند زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ وادی سندھ کی تہذیب کے مرکزہڑپہ میں پانچ ہزار سال سے پہلے پنچائیت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ہر خاندان سے ایک معتبر اور باکردار شخص کو پنچائیت کا ممبر بنایا جاتا تھا۔ ہڑپہ کے آثار میں مشترکہ ملکیت میں پنچائیت کا پایا جانا ایک طرف تو انصاف کے حصول کو بہتر بنانے کے لئے ادارے کی بنیاد رکھنے کی عکاسی کرتا ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ پارلیمنٹ کی شکل میں بھی موجود تھا ۔ پنچائیت لوگوں کو فوری دہلیز پر مفت انصاف مہیا کرتی تھی ۔ پنجائیت کا ادارہ وقت کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتا اور پورے برصغیر میں پھیل گیا اور تب تک قائم رہاجب تک ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پر قبضہ کر کے نو آبادیاتی عدالتی نظام متعارف نہیں کروا دیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1857ء کو پورے ہندؤستان پر قبضہ کر کے 1861ء میں عدالتی نظام متعارف کرایا اور لاہور ہائیکورٹ کی 1866ء میں بنیاد رکھی ۔ پنچائیت ہمیشہ انصاف کو مدنظر رکھ کر بغیر کسی سفارش کے فیصلے کیا کرتی تھی ۔ جبکہ نئے عدالتی نظام کا مقصد قانون کے مطابق فیصلے کرنا تھا ۔ نو آبادیاتی دور میں عدلیہ انتظامیہ کا حصہ تھی ۔ سول بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ عدالتی بیوروکریسی راج کرتی تھی۔قیام پاکستان کے ساتھ ہم نے عدلیہ کا انتظامی ڈھانچہ نو آبادیاتی نظام سے ورثے میں لیا۔ججوں کی بھرتی انتظامیہ کے ذریعے کی جاتی تھی۔ وزرائے اعلیٰ اپنے حامی وکلاء میں سے جج صاحبان کی فہرست مرتب کر کے عدلیہ کو بھیج دیا کرتے تھے۔ اسی طرح جج صاحبان انتظامیہ کے مرہونِ منت بھی رہتے تھے اور انکے مفادات کا تحفظ بھی کرتے تھے۔ یہ سلسلہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ تک قائم رہا ۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی تک جاری رہا مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ اور مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کا درمیانی عرصہ میں عدلیہ نے انتظامیہ سے علیحدگی اختیار کرنے کے عمل میں گزارا۔ مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی پر عدلیہ اپنے اندرونی ڈھانچے کو مکمل طور پر انتظامیہ سے علیحدہ کر چکی تھی لیکن وہ قوانین جو برطانوی سامراج نے اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے بنائے تھے وہ آج تک قائم ہیں۔ قانون بنانا اگرچہ عدلیہ کی ذمہ داری نہیں لیکن پھر بھی عدلیہ نے قانون کی بالادستی کو قائم رکھا اور لوگوں کو انصاف مہیا کرنے میں کردار اداکیا۔برطانوی سامراج عدلیہ کے افسران کو عوام سے اس لئے دور رکھتے تھے تا کہ ان کا ضمیر عوام الناس پر ظلم کرنے سے یا غلط فیصلوں پر ملامت نہ کرے ۔ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے اس سے وہ پوری طرح بے خبر رہیں۔ عدلیہ کا عوام سے میل جول روکنا ایک طرح سے سامراجی ہتھکنڈا تھا۔پاکستان کی عدلیہ چونکہ پاکستانی سماج ہی سے قائم کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کا یہ اقدام کہ عدالتی افسران عوام الناس سے گھل مل جائیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی بجائے انصاف کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ آزاد اور جمہوری معاشروں میں یہ عمل قابلِ تحسین ہے۔ یورپ کے کئی صنعتی اور جمہوری ممالک میں منتخب ججوں کا نظام متعارف کرایا گیا جو اس قدر کامیابی سے چلا کہ جج صاحبان قا نون کاسوفٹ وئیر بننے کی بجائے انسانی احساسات سے مسلح ہو کر انسانیت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں ۔چیف جسٹس آف لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کا لاہور ہائیکورٹ کی 150سالہ تقریبات کا انعقاد پنجاب بھر میں کرنے پر جج صاحبان کا عوام کے ساتھ تعامل پاکستان کی عدلیہ کواور قانون کی حکمرانی کو قابلِ فخر حد تک لے جانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور استحصال سے پاک معاشرے کا قیام قانون کی حکمرانی کا اسلامی اصول ہے۔لاہور ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات کے سلسلہ میں قدیم اور تاریخی شہر پاکپتن میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رائے نذیر احمد کی زیر سرپرستی میں سینئر سول جج فرحان شکوراور انکی پوری ٹیم نے مثالی اور شاندار تقریبات کا اہتمام کیا جس میں ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ لاہور مسٹر جسٹس حاجی محمد اکرم بیٹو ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری امیر محمد خان ،ریٹائرڈ سیشن جج ملک اکرام اللہ ،ریٹائرڈ سیشن جج چوہدری مظہر حسین نے شرکت کی ۔تقریبات کے آغاز میں شجر کاری مہم ، لاہور ہائی کورٹ کی 150ویں سالگرہ میں میگا کیک کا کاٹنا ، قومی پرچم کی سیشن کورٹ کی عمارت پر پرچم کشائی ، قانون کی حکمرانی پر کانفرنس اور آخری روز سرکاری وپرائیویٹ سکولوں کے بچوں کو قانون کی آگاہی کے سلسلہ میں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے دواران عدالتوں کا وزٹ کرایا گیا عظیم الشان کانفرنس میں ساہیوال ،اوکاڑہ، عارفوالااور پاکپتن سے جوڈیشل افسران کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ سول سوسائٹی ،سماجی تنظیموں ، سکالرز ، دانشوروں ، اعلیٰ انتظامی افسران ،انجمن تاجران کے علاوہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد جس میں پاکپتن کے معروف سینئر صحافی سید حسن عباس بخاری ،افتخار احمد بھٹی ،جنرل سیکرٹری پریس کلب وقار فرید جگنو ،پیر غلام فرید الدین چشتی ، اویس عدیل احمد خان بلوچ ،خالد محمود جٹ ،رانا مہران اکبرودیگر نے شرکت کی اور چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کے اس خوبصورت اقدام کو خوب سراہا ۔ تقریب کے آخر پر ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی طرف سے پریس کلب پاکپتن کے سینئر نائب صدر کالم نگار شاعر اے ڈی شاہد کو پھولوں کا گلدستہ اور سرٹیفیکیٹ ایوارڈ پیش کیا گیا کانفرنس و سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رائے نذیر احمد نے کہا کہ پاکپتن پنجابی زبان کے پہلے شاعر اولیاء اللہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی دھرتی ہے جو کسی زمانے ایشیاء کی سب سے بڑی تحصیل تھی ۔ہیر وارث شاہ کی خالق دھرتی جس کو ہندوستان میں شامل کرلیا گیا تھا جسے معروف قانون دان سید محمد شاہ نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے مقدمہ لڑ کر پاکستان میں شامل کروایا کنور مہندر سنگھ بیدی سحر اردو زبان کے بہت بڑے شاعر دہلی کے کمشنر بابا گرونانک کی اولاد ۔کا شی رام جس نے ہومیوپیتھک کا انسائیکلو پیڈیا لکھا ،مشہور کسان تحریک ’’ بنے دی ونڈ‘‘ کے چیئرمین لدھا رام کا تعلق بھی پاکپتن سے تھارائے نذیر احمد نے کہا کہ کو ئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا قانون کی حکمرانی سے ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ہم انصاف کے جس منصب پر فائز ہیں آج عہد کرتے ہیں کہ بلاتفریق ، رنگ نسل، ذات پات، امیر غریب، لوکل مہاجراقلیت اکثریت ، حاکم محکوم انصاف مہیا کریں گے ۔ قانون کی بالا دستی میں کوئی بھی طاقتور کسی کمزو رپر اور ظالم کسی مظلوم پر ظلم نہیں ڈھا سکتا۔انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ عام آدمی کو انصاف کی فراہمی فوری اور یقینی بنائیں گے ۔چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور قانون کی سرپرستی میں ہم انصاف کی تما م منازل طے کر کے اس معاشرہ کو انشااللہ پر امن ترقی یافتہ اور خوبصورت بنائیں گے جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو گی تو تمام معاشرتی ناہمواریاں خود بخود دم توڑ جائیں گیں۔چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منصور علی شاہ قانون کی حکمرانی کے لئے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں۔عوام کو انصاف کی فراہمی کے لئے ماتحت عدلیہ کے جوڈیشل افسران کی تعداد میں اضافہ کیا تاکہ مقدمات کا بر وقت فیصلہ ممکن ہو سکے ۔ لاہور ہائی کورٹ میں سائلین کی سہولیات کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا تاکہ سائلین کو ان کے مقدمات کی بابت جاننے کے کسی قسم کی کوئی دشواری نہ ہو۔ عوام کو سستے انصاف کی فراہمی کے لئے بھی اقدامات کر رہے ہیں اور ماتحت عدلیہ کی کارگردگی کی جانچ پڑتال کا نظام وضع کیا تاکہ جوڈیشل افسران کی کارگردگی بہتر سے بہتر ہو سکے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رائے نذیر احمد نے کہا کہ سید نا جناب حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا ’’ انسانوں کو ماؤں نے آزاد جنا‘‘اور فرما یا کہ عدل کر واحسان کے ساتھ ،انسانی خون سے سرخ زمین چیختی اور پُکارتی ہے نائبین خدا کو کہ خدارا خون ناحق بند کردیا جائے لیکن دھرتی کا یہ خواب تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک مساوات محمدی کا ضابطہ قوانین صحیح معنوں میں نافذ العمل نہیں ہوجاتا نظام عدل گستری سے منسلک ہر شخص اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ قانون کے نفاذ کیلئے پولیس شعبہ طب ،فرانزک لیبارٹریز ،بار ایسوسی ایشنز اور جوڈیشل آفیسرز سے پیرا لیگل سٹاف تک تمام افراد ایک لڑی میں پروئے جائیں توقانون کی عملداری کا نظام معرض وجود میں آتا لیکن یہ نظام اپنی بہترین حالت میں ہونے کے باوجود بھی شہادتوں اور ثبوتوں کی بیساکھیوں کا محتاج ہے وردی ہو یا جوڈیشل آفیسرکے روبزان کے اندرکا انسان تو آپ میں سے ہی ہے۔ جیسے جیسے معاشرہ اپنی اجتماعی ، اخلاقی اقدار کی اصلاح کرتا جائے گا نظامِ عدل و قضاۃایک بہترین تصویر ابھر کر ہمارے سامنے آتی جائیگی۔تاریخِ انسانی کی بیسیو ں ہی تہذیبیں ایسی ہیں جنکے کھنڈرات ہمیں ملتے ہیں لیکن درجنوں ایسی بھی ہیں جن کا ذکر صرف کتابوں میں ملتا ہے اور انکی باقیات تک ناپید ہو چکی ہیں اگرتہذیبوں کے اختتام کے اسباق سے آشنائی کی جائے تو واضع ہو گا کہ اکثر اور بیشتر تہذیبوں نے اپنے آخری ادوار میں انصاف کے تقاضوں کو بالاطاق رکھتے ہوئے اور قانون کی حکمرانی کے اصو لِ زریں سے انحراف کرتے ہوئے ایسے اشرافیہ کی پرورش کی جو آخر کار ایک عفریت کی صورت پوری تہذیب کو نگل گیاقانون کی حکمرانی میں ہم کن درخشاں روایات کے امین ہیں ہم بھول نہیں سکتے قضاۃِ مصطفویٰ کے سحر آفریں قول کو بھلا کون بھُلا سکتا ہے کہ رَبِّ کعبہ کی قسم اگر قصوروار فاطمہؓ بنتِ محمدﷺ بھی ہوتیں تو قانون کی عملداری اسی طرح قائم رہتی جیسا کہ تجویز کیا گیا۔ رائے نذیر احمد نے کہا کہ انصاف کے ایوانوں کے در عام آدمی پر مسجد کے دروازے کی طرح کھلے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

سڑکوں پر پڑے منشیات کے عادی افراد اور ایک مسیحا

Share this on WhatsAppتحریر؛ غلام مرتضی باجوہ معاشرے میں دوسروں کی مدد کرنا اور حقوق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے