میرے خوابوں کو لوٹا دو

تحریر : گلشن ناز :
…………………………………………………………………………………………………
باجی آپ کچھ کریں نا میں پڑھنا چاہتی ہوں میں ہر کوشش آزما کر دیکھ لی لیکن دادی جان کو صرف شادی کی رٹ لگی ہے یہ سولہ سالہ مقدس تھی جس کے اعلیٰ تعلیم کے خواب گھر یلو دقیانوسی سوچ کی وجہ سے کچلے جارہے تھے اس کا تعلق بھی انہی لڑکیوں میں سے تھا جو اعلیٰ تعلیم کے خواب دیکھتی تو ہیں لیکن وقت آنے ان کے خوابوں کے محل گھر والوں مسمار ہوتے ہیں وہ پانچ سال کی تھی جب میرے پاس آئی اب میٹرک کرکے گھر بیٹھی ہے مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے اس سے پہلی کلاس کے زبانی سوال یاد کروا رہی تھی کہ مقدس آپ بڑے ہوکر کیا بنو گی ؟تو وہ بڑی معصومیت سے کہتی میں ڈاکٹر بنوں گی اسکے اس جواب میں بلا کا عزم اور حوصلہ نظر آرہا تھا اس خواب کو سجائے اس نے پرائمری سے میٹرک کرلیا پھر جب بات کالج میں داخلہ کی آئی تو دادی جان کو شادی کی فکر لاحق ہوگئی باجی آپ بتائیں آپ کیا کرتیں اگر میری جگہ ہوتیں اس نے اپنا سوال داغا کہ اس کے اس سوال پر میرے پاس سوائے خاموشی کے کچھ نہیں تھا میں نظر انداز کرنے پر اس نے پھر سوال دہرایا کہ بتائیے نہ باجی آپ بھی تو ان حالات سے گزر چکی ہیں بتائیے میں کیا کروں ؟میں دل سے ایک زہریلا جواب نکلا بغاوت لیکن میں اپنے ہاتھوں تربیت کی ہوئی بچی کو بغاوت کی تعلیم نہیں دے سکتی ہوں میں نظریں چراتے ہوئے جھوٹ بولنے کی کوشش کی کہ یہ سب تمہارے بھلے کیلئے ہی ہے جس بچی کو میں نے صبر وشکر کی تعلیم دی اسے میں بغاوت پر نہیں لگا سکتی تھی کیونکہ حالات سے مقابلہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں خصوصاََ قدامت پرست خاندانوں کی لڑکیاں میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ بیٹا والدین اپنی اولاد کیلئے بہتر ہی سوچتے ہیں باجی وہ میرا مستقبل تباہ کررہے ہیں اور آپ اسے بہتری کہہ رہی ہیں اس بار اس نے جارحانہ جواب دیا جس پر کانپ گئی اس کی آنکھوں میں بغاوت صاف دکھائی دے رہی تھی میں اسے سمجھانے کیلئے کچھ بولتی اس سے پہلے اس کی آنکھوں کا بندھ ٹوٹ گیا میں خاموشی سے کمرے میں آگئی اور وقت تک نہیں نکلی جب تک وہ واپس چلی نہیں گئی کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ اس وقت اُس مقام پہ کھڑی تھی جب ہرکوشش بے سود ہو صرف ایک مقدس کا سوال نہیں بلکہ نہ جانے کی کتنی مقدس اپنی مقدس آنکھوں میں اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کے خواب سجا لیتی ہیں لیکن گھر والوں کی بے جا روک ٹوک ان کے خواب چکنا چور کردیتی ہے ایسے میں یہ بچیاں اپنے آئیڈل لوگوں سے اپنے دکھ درد شیئر کرتیں ہیں لیکن کوئی بھی مخلص ٹیچر اپنے شاگردوں کو بغاوت کا درس نہیں دیتی اس وقت میں بھی ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی کیا تعلیم نسواں کا مقصد صرف شعوری تعلیم تک ہی رہ گیا تعلیم بالغاں او ر حقوق نسواں کے اتنے بل پاس ہوئے اتنی تنظیمیں کام کررہی ہیں میرا ان کو پیغام ہے کہ وہ اس مقدس کیلئے کیا کریں گی؟ جو گھر والوں کی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کی اجازت کیلئے لڑ رہی ہو کیا ایسی مقدسوں کے خواب پورے کرنے کیلئے ان کے پاس باعزت حکمت عملی ہے؟ کیا ہمارے قانون میں کوئی ایسی شق بھی ہے کہ اگر بالغ لڑکی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتی ہو تو وہ اپنی منزل حاصل کرے اور گھر والوں کو کوئی رکاوٹ کا حق نہیں ہو اور اگر اس کے گھریلو وسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے تو کیا کوئی ایسا ادارہ یا تنظیم بھی ہے جو ایسے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے ہوئے ان کے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے اور ایسے والدین کیلئے کوئی جرمانہ ہے جو اپنی وسائل کے باوجود اپنی اولاد کے تعلیمی خواب کچل کر انہیں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہوں پھر ایک بل اس بات کا بھی پاس ہونا چاہیئے جو ان خوابوں کا تحفظ کرسکے اس مسئلہ کا قارین کی نظر میں کیا حل ہوگا اگر آپ اس مقدس کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟جواب دیجئے شائید آپ کے جواب سے کوئی مقدس ڈاکٹر بننے میں کامیاب ہوجائے

About BBC RECORD

Check Also

افغان ڈیل: قطر ثالث کار نہیں، امریکا کے دشمنوں کا معاون ہے!

Share this on WhatsAppتحریر؛ جورڈن شاختیل امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ میں دست خط ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے