’شام میں ترک فوجی ایرانی ڈرون کے حملے میں ہلاک ہوئے‘

ترکی کے ایک سینیر عسکری عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ 24 نومبر کو شمالی شام میں چار ترک فوجیوں کی ہلاکت ایران کے ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کے ذریعے داغے گئے میزائل حملے کے نتیجے میں ہوئی تھی۔

ترک اخبار "حریت ڈیلی نیوز” نے ایک عسکری عہدیدارکی شناخت مخفی رکھتے ہوئے اس کے حوالے سے بتایا ہے کہ انقرہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شمالی شام میں چار تک فوجیوں کی ہلاکت ایرانی ساختہ ایک بغیر پائلٹ ڈورن طیارے کے حملے کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ ڈورن طیارہ شامی فوج نے براہ راست استعمال کیا، ایرانی ملیشیا ’فیلق القدس‘ کے جنگجوؤں نے استعمال کیا، حزب اللہ ملیشیا یا کسی دوسرے گروپ کی طرف سے فضاء میں چھوڑا گیا تھا؟

خیال رہے کہ 24 نومبر ہی کو ترک وزیرخارجہ مولود جاویش اوگلو ترک انٹیلی جنس چیف ہاکان فیدان کے ہمراہ تہران کا دورہ بھی کیا تھا تاہم انہوں نے شام میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں ایران سے کسی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے۔ تاہم ترک اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام میں قیام امن اور امدادی کارروائیوں کی بحالی کے لیے جنگ بندی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب روس نے بھی اپنے کسی طیارے یا اسد رجیم کی فوج نے ترک فوجیوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ داعش کےخلاف سرگرم عالمی اتحاد نے بھی وضاحت کی ہے کہ اس کے کسی طیارے نے ترک فوجیوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
ایران کا ڈرون طیاروں کا استعمال

شام میں ایرانی ساختہ ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کا واقعہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ خود ایران متعدد بار یہ اعتراف کرچکا ہے کہ اس کے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے شامی فوج کے پاس موجود ہیں جن کی مدد سے شامی اپوزیشن پر حملے کیے جاتے ہیں۔

رواں سال جون میں ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایک رپورٹ نشر کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی فوج جنگ میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے استعمال کررہی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے اسلحہ ساز ادارے دیسی ٹیکنالوجی سے ڈورن طیارے بناتے ہیں۔ ایران میں مقامی سطح پر ’ابابیل‘’مہاجر‘ اور ’صھد‘ نامی ڈورن طیارے تیار کیے جاتے ہیں۔ امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کے باعث تہران دوسرے ملکوں سے ڈرون ٹیکنالوجی خریداری میں ناکام رہا ہے۔

مئی 2014ء میں ’ڈیلی بیسٹ‘ ویب سائیٹ نے ’شام میں ایرانی ڈرون طیاروں کا جنگی مقاصد میں استعمال‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے پاس ’’شاھد‘‘، ’’عاز‘‘، مہاجر، حماسہ اور ’’سریر‘‘ نامی ڈورن طیارے درجنوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنے ڈورن طیاروں کو شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں استعمال کررہا ہے۔

ڈیلی بیسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں میں ’’یاسر‘‘ نامی ایک طیارہ بھی شامل ہے جسے خاص اہتمام کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ اسے اپ گریڈ کرنے کے بعدScanEagle کی نئی شکل دی گئی تھی۔ یہ طیارہ تجرباتی پرواز کے دوران 2012ء میں ایران ہی میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس وقت امریکا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران ڈرون طیاروں کے ذریعے افغانستان میں جاسوسی کررہا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

کابل گوردوارے میں قتل عام کرنے والا بھارتی شہری تھا، انڈین اخبار کا انکشاف

Share this on WhatsAppنسیم غنی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛کراچی معروف بھارتی اخبار ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے