چینی میڈیا میں شمالی کوریا کے سربراہ کو ’موٹا‘ کہنے پر تنازع

چین کے ذرائع ابلاغ میں شمالی کوریا کے شدت پسند اور مجموعہ اضداد سربراہ ’کیم جونگ اون‘ کو موٹا کہنے پر شمالی کورین وزراء نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چینی حکومت سے اس طرح کے القابات کا استعمال بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چین کے ذرائع ابلاغ میں شمالی کوریا کے سخت گیر رہ نما کیم جونگ اون کے لیے ان کے موٹاپے اور بھاری بھرکم جسم کی بناء پر ’موٹا‘ ، ’پنیر کا بڑا ٹکڑا‘ اور ’موٹا کیم سوم‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ چینی وزراء اپنی نجی نوعیت کی گپ شپ میں بھی کیم جونگ اون کو ’موٹا‘ کہہ دیتے ہیں پر شمالی کوریا کے وزراء نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ہانگ کانگ کے ذرائع ابلاغ کےمطابق شمالی کوریا کی حکومت میں شامل عہدیداروں اور وزراء نے چینی ذرائع ابلاغ میں ’کیم جونگ اون‘ کو موٹا کہنے کا معاملہ غیرمعمولی حد تک سنجیدگی سے لیا ہے۔ وزراء کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس معاملے میں لا پرواہی برتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ ریاست کے سربراہ انہیں جان سے مار سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے سخت گیر سربراہ کیم جونگ اون کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی ہی کابینہ کے اہم عہدیداروں کو معمولی واقعات پر سزائے موت دینے سےبھی نہیں چوکتے۔انہوں نے اپنے ایک وزیر کو اجلاس میں اونگھنے پر سزائے موت دے دی تھی۔

جہاں تک کیم جونگ اون کو ’پنیر کا بڑا ٹکڑا‘ کہہ کر مذاق اڑانے کا تعلق ہے تو اس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ کیم اون چونکہ سوئس پنیر کے بہت رسیا ہیں۔ پنیر کے کثرت استعمال سے ان کا وزن حالیہ چند برسوں میں بہت بڑھ گیا ہے۔ چینی میڈیا میں اسی لیے انہیں ’پنیر کا ٹکڑا‘ کہا جاتا ہے

About BBC RECORD

Check Also

امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے