جنوبی کوریا کی صدر اور ان کی سہیلی کا اسکینڈل !

جنوبی کوریا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کی صدر پارک گون ہَے کو پوچھ گچھ کا سامنا ہے۔ 60 سالہ پارک سے یہ پوچھ گچھ اس پالیسی کے اسکینڈل کے پس منظر میں ہو رہی ہے جس میں صدر کی انتہائی قریبی سہیلی چوئی سون سل ملوث ہیں۔

چوئی پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر پارک سے اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست کے امور پر اثر انداز ہونے ، صدارتی دستاویزات افشا کرنے ، اعلی حکومتی اہل کاروں کے تقرر اور متعدد بڑی کمپنیوں سے دو اداروں کے لیے عطیات کی وصولی کے واسطے استعمال کیا۔

استغاثہ نے بدھ کے روز چوئی سون سل کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان سے اختیارات کا غلط استعمال کرنے ، دھوکہ دہی کی کوشش ، خفیہ حکومتی دستاویزات کے حصول اور ریاستی امور میں مداخلت کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذاتی مفادات کے لیے ظہرانہ

واضح رہے کہ صدر پارک نے گزشتہ برس جولائی میں جنوبی کوریا کی بڑی کمپنیوں کے 17 سربراہوں کو ظہرانے پر دعوت دی تھی۔ اس دوران صدر نے ایک غیر منافع بخش فنڈ قائم کرنے کے لیے مالی سپورٹ کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں پارکی کی سہیلی چوئی نے اس فنڈ کے قیام میں مداخلت کر کے اس کی رقم کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

سابق صدارتی سکریٹری جونگ ہو سیونگ (47 سالہ) نے تحقیقات کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے چوئی سون سل کو خفیہ دستاویزات فراہم کیے تھے۔ استغاثہ کے نزدیک بڑی کمپنیوں سے عطیات کا جمع کیا جانا صدر پارک کے آشیرباد سے عمل میں آیا۔

قانونی شعبے کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ "صدر پارک کے ساتھ تحقیقات اس گتھی کو سلجھانے کا آخری عمل ہے۔ چوئی کے ساتھ پوچھ گچھ کے دوران استغاثہ کو اس حوالے سے مطلوبہ جوابات حاصل نہں ہوئے تھے”۔
عطیات پر مجبور کرنا

سرکاری استغاثہ کے دفتر کے ایک ذمے دار کے مطابق کوریا کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے بھی اس حوالے سے پوچھ گچھ ہوئی کہ آیا صدر پارک یا اسکینڈل میں ملوث کسی بھی اور شخصیت کی جانب سے چوئی کے زیر کنٹرول اداروں کے لیے عطیات دینے کے واسطے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

سام سنگ کمپنی نے 1.5 کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا تھا۔ کمپنی پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے جرمنی میں چوئی کی بیٹی کی گھڑ سواری کی تربیت کے اخراجات کے واسطے صدر پارک کی سہیلی کو 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم ادا کی۔ رپورٹوں کے مطابق صدر پارک نے جولائی میں اپنے دفتر میں سام سنگ اور ہنڈائی کمپنی کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات میں دو ثقافتی اداروں کے واسطے عطیات دینے پر زور دیا جہاں چوئی کو وسیع رسوخ حاصل تھا۔
شمعیں ، معذرتیں اور بینر

ہفتے کی شام جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں لاکھوں مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں شمعیں تھام کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین مذکورہ اسکینڈل کی بنیاد پر صدر پارک گون ہے کے سبک دوش ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس سے قبل صدر پارک اپنے دو خطابوں کے دوران جنوبی کوریا کے عوام کے سامنے دو مرتبہ معذرت پیش کر چکی ہیں تاہم لگتا ایسا ہے کہ یہ کوششیں عوام غصے کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

مظاہرین نے جن میں خاندان کے افراد اور مختلف سطح کے طلبہ شامل تھے ، ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ "پارک کی حکومت کو ضرور ختم ہونا ہے”۔

About BBC RECORD

Check Also

سعودی اتحاد بدترین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، سربراہ انصار للہ

Share this on WhatsAppصنعا (مانیٹرنگ ڈیسک) انصار اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے