جرمن انٹیلی جنس کا شدت پسند فحش فلموں کا اداکار نکلا

جمعرات کے روز سامنے آنے والی میڈیا رپورٹوں کے مطابق جرمنی میں انٹرنیٹ پر شدت پسندی پر مبنی بیان جاری کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مذکورہ شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جرمنی کی داخلہ انٹیلی جنس کی ایجنسی میں شمولیت سے قبل ہم جنس پرستوں کی مخرب الاخلاق اور فحش فلموں میں اداکاری بھی کر چکا ہے۔

جرمنی کے اخبار Bild Zeitung کے مطابق تحقیق کاروں نے ملک کے مغرب میں واقع قصبے "ٹوئن فوریسٹ” میں ایک مشتبہ گھر کی تلاشی لی تو وہاں سے نہ صرف اس بات کے شواہد ملے کہ مذکورہ 51 سالہ شخص نے خفیہ ایجنسی کے راز افشا کیے ہیں بلکہ یہ انکشاف بھی ہوا کہ وہ فحش فلموں میں شریک ہوچکا ہے۔

جرمنی کی داخلہ انٹیلی جنس (BfV) نے اخبار کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اس لیے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ ایجنسی کے مطابق مذکورہ شخص نے انٹرنیٹ پر شدت پسندی پر مبنی تبصرہ کیا تھا اور مختلف چیٹ روم میں داخلہ انٹیلی جنس ایجنسی کے کام کے حوالے سے حساس معلومات کے تبادلے کی پیش کسش بھی کی جس کے بعد اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ شخص کے گھرانے کو بھی اس کی دُہری زندگی کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا جس میں اس کا چھپ کر اسلام قبول کرنا شامل ہے۔

جرمنی میں حکمراں جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین کے رہ نما پیٹرک سینسبرگ نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ” ہمارے نظام میں چند سالوں بعد کے بجائے ہر سال سکیورٹی چیک کا عمل ہونا چاہے”۔

سکیورٹی ذریعے کے مطابق مشتبہ شخص کا داخلہ انٹیلی جنس ایجنسی میں تقرر رواں سال اپریل میں ہوا تھا اور اسے شدت پسندوں کی نگرانی کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

ایجنسی میں شمولیت سے قبل وہ ایک بینک میں بطور مینجر کام کرتا تھا۔ انٹرنیٹ سے حاصل ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رضاکارانہ کارروائیوں میں بھی سرگرم رہا ہے۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ ” اس حوالے سے تحقیقات کی جانی چاہیے کہ آیا اس شخص نے خفیہ اور حساس معلومات افشا کی ہیں یا نہیں”

About BBC RECORD

Check Also

امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے