ٹرمپ کا داماد مشرق وسطی میں امن کا معمار بن سکے گا ؟

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑی بیٹی ایوانکا کا شوہر جیرڈ کُشنر نیم پراسرار شخصیت کا مالک شمار کیا جاتا ہے۔ کبھی تو وہ ذہین اور بالغ نظر لگتا ہے جب کہ بعض مرتبہ اس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بنا کسی اہلیت اور قابلیت کے محض اپنے والد کی دولت کے بل بوتے پر "ہارورڈ” یونی ورسٹی جیسے مؤقر ادارے میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

جائیداد کے کاروبار سے وابستہ صاحب ثروت کاروباری شخصیت جیرڈ کشنر نے 2009 میں ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے شادی کی۔ تین بچوں کے باپ کشنر 2006 سے امریکی اخبار "نیویارک آبزرور” کا مالک بھی ہے۔

جیرڈ کشنر جنوری 1981 میں پیدا ہوا اور اس نے مذہب کے پابند یہودی کے طور پر پرورش پائی۔ 2003 میں اس نے ہاورڈ یونی ورسٹی میں داخلہ لیا اور عمرانیات کے شعبے میں گریجویشن مکمل کیا۔ اس دوران اس کے باپ نے یونی ورسٹی کو 25 لاکھ ڈالر کا عطیہ بھی دیا۔

2007 میں کشنر نے نیویارک یونی ورسٹی سے قانون اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ 2009 میں اس نے ٹرمپ کی بیٹی سے (اس کے یہودی مذہب قبول کرنے کے بعد) شادی کر لی جس سے کشنر کی تین اولادیں 5 سالہ بیٹی ایرابیلا ، 3 سالہ بیٹا جوزف اور 8 ماہ کا بیٹا تھیوڈر ہیں۔
مال کس طرح کماتا ہے ؟

جیرڈ کشنر بنیادی طور پر جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ ہارورڈ یونی ورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی اس کی دولت 2 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی تھی جب کہ وہ علاقے میں محض تفریح کی خاطر عمارتوں کی خرید و فروخت کیا کرتا تھا۔

2006 میں کشنر نے 1 کروڑ ڈالر کی مالیت سے امریکی اخبار "نوییارک آبزرور” خرید لیا۔ 2007 میں کشنر کو اُس وقت بڑے پیمانے پر شہرت حاصل ہوئی جب اس نے 666 کے علاقے میں دفاتر کے لیے ایک عمارت خریدی۔ واضح رہے کہ 1.8 ارب ڈالر کا سودا کرتے وقت کشنر کی عمر صرف 26 برس تھی۔

جیرڈ کشنر کی حالیہ دولت کا اندازہ 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس میں اثر و رسوخ ہوگا ؟

اگرچہ کشنر ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو ڈیموکریٹک پارٹی کی تائید کے حوالے سے معروف ہے تاہم تابع دار داماد کا ثبوت دیتے ہوئے کشنر صدارتی انتخابات میں اپنے سُسر کے شانہ بشانہ رہا اور ٹرمپ کی انتخابی مہم پر اپنی ذاتی دولت سے ایک لاکھ ڈالر خرچ کیے۔

ٹرمپ کی پوری انتخابی مہم کے دوران کشنر نے ٹکنالوجی کے شعبے کی نگرانی کی اور اپنے سسر کی تشہیر کے سلسلے میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے امور کی ذمے داری براہ راست طور پر خود سنبھالی۔

کشنر نے ٹرمپ کی متعدد تقاریر بھی لکھیں ، انتخابی مہم کے دوروں کا بھی انتظام کیا اور اب نئے صدر کے وہائٹ ہاؤس منتقل ہونے کے منصوبے کو بھی ترتیب دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے کشنر کو "Quiet Fixer in Donald Trump’s Campaign” کا خطاب دیا۔ بالخصوص جون میں ٹرمپ کے اپنی انتخابی مہم کے مینجر "کورے لیوونڈوسکی” کو فارغ کر دینے کے بعد جو کہ کشنر کے خفیہ رسوخ کا نتیجہ تھا۔ ایسے وقت میں جب ٹرمپ اپنی جیت کے دو روز بعد وہائٹ ہاؤس میں صدر اوباما سے ملاقات کر رہے تھے اسی وقت کیمروں کی آنکھ نے کشنر کو وہائٹ ہاؤس کے جنوبی باغ میں اوباما کے ملازمین کے سربراہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح ٹرمپ کی جیت کے بعد دو ہفتوں سے بھی کم مدت میں کشنر اور ایوانکا جاپانی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ کے ہمراہ نظر آئے۔

اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں ہیں کہ آیا ٹرمپ اپنے داماد کشنر کو وہائٹ انتظامیہ میں اپنے ساتھ رکھیں گے ؟!

تاہم بعض کے نزدیک قانونی زاویے سے ایسا کرنا مشکل ہوگا۔

مشرق وسطی کے امن میں کوئی کردار ادا کرے گا ؟

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز” نے اپنی تین روز پہلے کی رپورٹ میں مشرق وسطی کے امن کے عمل میں کشنر کے ممکنہ کردار پر روشنی ڈالی تھی۔ سب سے پہلے یہ کہ کشنر بیت المقدس کی بلدیہ کے سربراہ کا دوست ہے۔ اس نے ایک مرتبہ اسرائیلی انشورنس کمپنی خریدنے کی کوشش بھی کی تھی بلکہ اس کے والدین کے نام بیت المقدس میں ایک اہم ہسپتال پر لکھے ہوئے ہیں تاہم کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔

خود ٹرمپ نے رواں ہفتے "نیویارک ٹائمز” کو انٹرویو دیتے ہوئے باور کرایا تھا کہ ان کا داماد مشرق وسطی میں امن کے استحکام کی کوشش میں کردار ادا کر سکتا ہے خواہ یہ کردار غیر نمایاں صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ بعد ازاں ٹرمپ نے واضح کیا کہ ” میرا مطلب ہے کہ وہ خطے اور وہاں کے لوگوں کو اچھی طرح سے جانتا ہے اور تنازع کے دونوں فریقوں سے واقف ہے”۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کشنر عملی طور پر خطے کو ٹرمپ سے زیادہ جانتا ہے۔ اسرائیلی ذمے داران نے بالخصوص وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کے قریبی عہدے داروں نے اس حوالے سے پر امید ہونے کا اظہار کیا ہے اس لیے کہ وہ کشنر کو اپنے حلیف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر "رون ڈیرمر” جن کے کشنر سے بہت قریبی تعلقات ہیں ، انہوں نے ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ (کشنر) اسرائیل کے امن اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ذمے داری محسوس کرتا ہے”۔

جیرڈ کشنر کے والد کا اسرائیل کے ساتھ زیادہ واضح تعلق ہے جو اسرائیل میں جائیداد کے کاروبار سے بھی وابستہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ستمبر میں نیتنیاہو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کشنر کے توسط سے ہی منعقد ہوئی تھی بلکہ وہ خود ملاقات میں موجود تھا۔

امریکی اخبار "نیو ریپبلک” کے سابق مالک اور ہاورڈ میں جیرڈ کشنر کے ہم معاصر مارٹن پیرٹس کا کہنا ہے کہ کشنر ایک "تزویراتی مفکر” ہے۔ وہ مشرق وسطی کو اوباما اور جان کیری سے زیادہ جانتا ہے۔

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے ساتھ گفتگو کرنے والے اس امر کے قائل ہوچکے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امور میں کشنر کی رائے اہمیت کی حامل ہوگی۔

یہودی نژاد اور اسرائیل سے تعلقات

جیرڈ کا تعلق ہولوکوسٹ میں بچ جانے والے ایک خاندان سے ہے بالخصوص اس کا دادا کشنر۔ جیرڈ نے نیوجرسی میں کٹر مذہبی یہودی گھرانے میں پروش پائی اور بچپن میں ایک یہودی اسکول میں ہی تعلیم پائی۔ شادی کے بعد ایوانکا ٹرمپ کا یہودی مذہب اختیار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جیرڈ کا یہودی مذہب سے کتنا گہرا تعلق ہے۔

جیرڈ نے 2014 میں اپنے دوست "شلومو گرومین” کی دعوت پر اسرائیل کا دورہ کیا تھا جو خود بھی جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ اس دوران اس نے ایک انشورنش کمپنی "وینکس ہولڈنگز” کے نصف حصص خریدنے کی بھی کوشش کی تھی تاہم یہ سودا انجام تک نہیں پہنچ سکا۔

اسی سال جیرڈ کے والد نے بیت المقدس کا دورہ کیا اور "شار زیدک” ہسپتال کے لیے 11.5 ایکڑ زمین تحفے میں دی۔ اسی طرح جیرڈ کے والد 10 برسوں سے امریکا اسرائیل مشترکہ پراپرٹی انویسٹمنٹ فنڈ کے شراکت دار بھی ہیں۔ امریکا میں اسرائیل کے سابق سفیر اور مذکورہ فنڈ کے ایک بانی رکن "زلمان شوویل” کا کہنا ہے کہ "یہ خاندان اسرائیل سے متعلق بہت سے سرگرمیوں میں شریک ہوتا ہے”

About BBC RECORD

Check Also

اسپین:کرونا وائرس سے 24 گھنٹے میں 849 ہلاکتیں ، 9222 نئے کیسوں کی تصدیق

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ اسپین گذشتہ 24 گھنٹے کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے