حوثیوں کے داغے 11 گولے سعودی علاقے میں جا گرے

سعودی عرب کے سرحدی علاقے الطوال میں 11 مارٹر گولے گرے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر سعودی عرب کے سرحدی صوبے جازان کے مقابل یمنی علاقے جمعے کی دوپہر تک اتحادی طیاروں اور توپ خانوں کی آوازوں سے گونجتے رہے۔ اس دوران صوبے کے دو ضلعوں الطوال اور الخوبہ کے مقابل علاقوں کو خاص طور پر گولہ باری کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
مشترکہ سعودی افواج نے جنوبی ظہران میں سرحدی صوبے المجازہ کی جانب مسلح ملیشیاؤں کی پیش قدمی کو ناکام بنا دیا۔ رات گئے تک جازان اور نجران کے مقابل یمنی علاقوں میں گولے داغنے والے لانچروں کو تباہ کر دیا گیا۔
اس سے قبل سعودی افواج نے جنوبی ظہران کے مقابل باغیوں کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا تھا۔ جھڑپوں کے دوران درجنوں باغی مارے گئے جب کہ ایک سعودی فوجی اہل کار بھی شہید ہوا۔
دوسری جانب یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے تعز صوبے میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی سپورٹ کے لیے عسکری کمک بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔ علاقے میں سرکاری فوج کے بریگیڈیئر جنرل خالد فاضل کا کہنا ہے کہ تعز میں باغی حوثی اور معزول صالح کی ملیشیائیں آخری سانسیں لے رہی ہیں۔
تعز میں ہی ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں القاعدہ تنظیم کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مارے جانے والے کمانڈروں کا نام حمزہ الابی اور عبدالرحمن الصنعانی ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو پھیلا رہے ہیں؛ نینسی پلوسی

Share this on WhatsAppامریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے عالمی ادارہ صحت سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے