کیسی گھٹیاسوچ ھے آپکی

عفت حسن رضوی
کیڑے پڑیں ان کیمروں میں جنہوں نے یہ منظر نیوز چینلز کی اسکرینز سے دنیا کو دکھایا کہ سیاسی کزنز پی ٹی آئی کے نعیم الحق اور عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور میں گالم گلوچ اور کھینچا تانی ہوئی۔ ارے ناہنجارو، وہ تو پاناما کیس کی سماعت کے بعد پکڑم پکڑائی کھیل رہے تھے۔ آپ نے کیا سمجھا کہ وہ میڈیا ڈائس پر عوام سے خطاب کے لیے لڑ رہے ہیں۔۔ چہ چہ کیسی گھٹیا سوچ ہے آپ کی۔
کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو ناراض کیا، دھرنے کے سپنے توڑے، اسلام آباد میں مفت کیمپنگ کے سارے پلان کی ایسی تیسی کردی، ارے بیوقوفو، آپ کے قائد تو صرف اپنے بے لوث کارکنوں کا حوصلہ چیک کر رہے تھے۔
ڈیڑھ سو فیصد جھوٹ تو یہ بھی ہے کہ عمران خان دھرنے اور احتجاج کی کال دینے کے بعد بنی گالا سے باہر نہیں نکلے، جھوٹو، کتنی بار آسمان نے یہ منظر دیکھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر آئے میڈیا سے بات کی مگر ظالم حکومت کے سپاہی ان سے ایک کلو میٹر دور چوکی لگائے بیٹھے تھے، پھر یہ بچارے کیا کرتے، چار و ناچار بنی گالہ کے بنگلے میں واپس جانا پڑتا تھا، کتنی بھاری گزرتی تھیں وہ راتیں، ان کا تو جی ہول جاتا ہوگا جب یہ سوچتے ہوں گے کہ کارکن کھلے آسمان تلے بنی گالا کی پہاڑی پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
خدا کرے ان کی آنکھیں چندھیا جائیں جو یہ کہتے ہیں کہ دھرنے کی کال پر کارکن باہر نہیں نکل سکے، اندھو، کیا دیکھا نہیں کہ دس لاکھ کا مجمع چند گھنٹوں میں جمع ہوگیا۔
اور وہ پی ٹی آئی کے جلسے میں خواتین انکلوژر کو خاردار تاروں سے لپیٹنے والی بات، وہ خواتین کو زد و کوب کرنے اور دست درازی کرنے کے الزامات۔۔۔ یہ سب بعض گھٹیا صحافیوں کا بنایا اسکینڈل ہے، سستی شہرت کے بھوکو! کان کھول کر سنو، وہ خاردار تاریں تو خواتین انکلوژر کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے لگائی جاتی ہیں تاکہ جب لائٹ پڑے تو وہ تاریں چم چم کر کے چمکیں۔ آپ نے کیا سمجھا کہ تاریں یوں لگائی ہیں کہ کہیں مرد کارکن خواتین پر دھاوا نہ بول دیں، پس ثابت ہوا کہ بہت ہی گھٹیا سوچ ہے آپ کی۔
جو یہ کہتے ہیں پی ٹی آئی کو میچورٹی اور پی ٹی آئی ورکرز کو سیاسی تربیت کی ضرورت ہے، خود انہیں چاہیے کہ ایلفی کی ایک شیشی لیں اور ڈھیروں قطرے آنکھوں میں ٹپکائیں اور دوسری شیشی سے ایلفی سلوشن اپنے کانوں میں بھر لیں۔ ہیٹرز! آپ کا یہی علاج ہونا چاہیے۔ بھلا فرشتوں کو بھی کوئی عبادت نہ کرنے کا طعنہ دے سکتا ہے۔
کتنے جھوٹے ہیں یہ میڈیا والے کہتے ہیں عمران خان نے فلاں کو دھکا دیا، کارکن آگے آیا تو ہٹا دیا گیا، کسی نے ہاتھ ملانا چاہا تو جھٹک دیا، ارے بھائی آپ سب کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ لینا اب ضروری ہوگیا ہے، ایسی فوٹیج اور واہیات خبریں یہ سب ورچوئل ٹیکنالوجی کا کمال ہیں بھئی۔ ویڈیو میں کوئی اور شخص عمران خان کے قد کاٹھ کا ہوتا ہے۔ یہ نگوڑ مارے اتنے فارغ ہیں کہ اس شخص کی منہ کی جگہ عمران خان کی تصویر لگا دیتے ہیں۔ شاید انہیں معلوم نہیں کہ ایسی چیپ حرکات کو خان صاحب کے چاہنے والے ایک نینو سیکنڈ میں پکڑ لیتے ہیں۔
ترس آتا ہے ان دماغوں پر جو خان صاحب کی دور اندیشی کو نہیں پہچانے۔ خان صاحب کو جب بھی لگتا ہے کہ ایک راستہ جو انہوں نے زور و شور سے اپنایا غلط ہے۔ وہ فوری طور پر واپسی کی راہ لیتے ہیں، خان صاحب کے کاندھوں پر لاکھوں کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ رہنما اور رہبر ہیں۔ اسی لیے پہلے وہ سیاست کی آڑی ترچھی ہر ڈگر پر بے خوف و خطر جاتے ہیں۔ جب ذرا خطرے کی بو سونگھتے ہیں فوری طور پر واپس ہوجاتے ہیں۔ اب عاقبت نا اندیش اسے یوٹرن کہیں تو ان کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ باوّلو، اسی کو تو رہبری کہتے ہیں، آپ اب تک سمجھے نہیں۔
جب میں کراچی یونیورسٹی کی طالبہ تھی ہمارا ایک کلاس فیلو متحدہ قومی موومنٹ کا ساتھی بھائی ہوا کرتا تھا۔ اس سے دنیا بھر کی بات کرلو، ہمیشہ منطقی جواب آتا تھا، مگر ہم دوست مذاق میں بھی الطاف حسین کو کچھ کہتے تو وہ جذباتی ہو کر کہتا دیکھو بھائی کو کچھ مت کہنا میں برداشت نہیں کرسکتا وہ میرے روحانی استاد ہیں، میں اپنے باپ کے بارے میں کچھ سن لوں گا، میرے الطاف بھائی کے بارے نہیں۔ اب اس کی فیس بک وال پر الطاف حسین کے مزاحیہ وڈیو کلپس دیکھ کر اندازہ ہوا، کتنا بگڑ گیا یہ شخص، ایک فرشتہ صفت کا مذاق اڑا رہا ہے۔
کسی نے سچ کہا عقل دھوکا کھانے سے آتی ہے، بادام کھانے سے نہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

ستائیس رمضان المبارک کی ساعتوں میں قیام پاکستان

Share this on WhatsAppتحریر( حاجی وسیم اسلم ) نزول قرآن اور لیلتہ القدر کی بابرکت ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے