FILE - In this Oct. 2, 2016 file photo, tribesmen loyal to Houthi rebels, hold their weapons as they chant slogans during a gathering aimed at mobilizing more fighters into battlefronts in several Yemeni cities, in Sanaa, Yemen. The U.S. is weighing what military response it should take against Yemen-based Houthi rebels, who U.S. officials say launched two missiles at American warships in the Red Sea on Sunday, the Pentagon said Tuesday, Oct. 11, 2016. (AP Photo/Hani Mohammed, File)

سابق یمنی صدرنے اتحادی فوج کے حملے بند اور غیر ملکی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

صنعاء یمن کے منحرف صدر علی عبداللہ صالح نے قریبا دو سال تک مسلح بغاوت کے بعد راہ راست پر آنے کا اشارہ دیا ہے اورکہاہے کہ کہ امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے یمن میں قیام امن کے لیے پیش کردہ امن فارمولہ مجموعی طور پر مذاکرات کے لیے کافی حد تک مناسب ہے۔ علی صالح کا یہ بیان بغاوت ترک کرنے کا واضح اشارہ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سابق منحرف صدر علی عبد اللہ صالح نے اپنی جانب سے بھی کچھ شرائط عاید کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے اتحادی فوج کو تمام فوجی کارروائیاں روکنا، شہروں کا محاصرہ ختم کرنا، غیر ملکی فوج کا انخلاء اور یمن پر عاید پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔علی صالح نے کھلے الفاظ میں کہا کہ وہ ملک کی سلامتی، استحکام، سالمیت اور خطے میں دیر پا قیام امن کے لیے ہرقابل عمل امن فارمولے میں مکمل تعاون اور مثبت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

ہنڈراس اپنا سفارت خانہ بیت المقدس میں کھولے گا

Share this on WhatsAppہنڈراس کے صدر جووان اورلینڈو ہرنانڈیز کا کہنا ہے کہ ان کا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے