خواتین ممبر پارلیمان کے ساتھ جنسی بدسلوکی عام ہے: رپورٹ

جنیواایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین پارلیمان کے ساتھ بھی جنسی بدسلوکی یہاں تک کہ تشدد عام ہے۔عالمی سطح پر اراکین پارلیمان کی نمائندگی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں خواتین پارلیمان کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے یہاں تک کہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا معاملہ عام ہے۔انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو)یہ رپورٹ جنیوا میں جاری اپنے سالانہ اجلاس میں جاری کر رہی ہے۔اس سروے میں صرف 55خواتین ارکان پارلیمان نے حصہ لیا لیکن وہ دنیا کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ان میں سے 80فیصدخواتین ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انھیں کسی نہ کسی شکل میں ذہنی یا جنسی طور ہراساں کیے جانے یا تشدد کا سامنا رہا ہے۔ان میں بعض ایسی بدسلوکیوں کا بھی ذکر ہے جس کا دنیا بھر میں خواتین اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران سامنا ہوتا ہے۔یورپ کی ایک خاتون رکن پارلیمان نے بتایا کہ انھیں ٹوئٹر پر صرف چار دنوں میں ریپ کے متعلق 500دھمکیا ں ملی تھیں۔اسی طرح ایشیا کی خاتون رہنما کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے بیٹے، اس کے سکول، اس کی کلاس اور اس کی عمر کے ذکر کے ساتھ دھمکیاں ملی تھیں۔سروے میں شامل 65.5فیصد خواتین نے بتایا کہ ‘جنسی زبان اور علامات’ کے ساتھ ان کی بے عزتی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرد ساتھیوں کی جانب سے ذلیل و خوار کرنے والے ریمارکس عام ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

دبئی کے حاکم نے اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا

Share this on WhatsAppابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں دبئی کے امریکہ و اسرائیل نواز ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے