نیب کی وائٹ کالر کرائمز کی روک تھام 278ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں

اسلام آباد قومی احتساب بیورو (نیب) کی عملدرآمدی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی ہے جس کے تحت وائٹ کالر کرائمز کی روک تھام کرتے ہوئے 278 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں۔ نیب کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نیب پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والا ادارہ ہے جو 1999ء میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کو کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری سونپی گئی، نیب کا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہے جبکہ کراچی، پشاور، خیبرپختونخوا ، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، بلوچستان، ملتان اور سکھر میں 8 علاقائی دفاتر جبکہ گلگت بلتستان میں ایک ذیلی دفتر موجود ہے۔ نیب قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے تحت کام کرتا ہے۔ نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری نے 2013ء میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیب کی تشکیل نو کے لئے متعدد اقدامات کئے اور ملک سے کرپشن اور غلط کاریوں کے خاتمے کے لئے ایک موثر اور جامع قومی انسداد کرپشن حکمت عملی وضع کی۔ بیان کے مطابق نیب کی کرپشن کے خلاف قومی حکمت عملی کو پلڈاٹ اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل جیسے قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ہے۔ سماجی شعبہ کے ماہرین کے مطابق 2014ء کا سال نیب کے دوبارہ ابھرنے کا سال ہے جس میں نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر ادارے میں بہت سی نئی شروعات کی گئیں جن کا مقصد کسی بھی قسم کے خوف یا پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر کرپشن کے کیسوں کو نمٹانا تھا۔ 2015ء میں کا سال عمل درآمد کی پالیسی کی کامیابی کے حوالے سے اہم ثابت ہوا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کی موجودہ انتظامیہ نے 2016ء میں نیب کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پریس ریلیز میں نیب کی عملدرآمد کی حکمت عملی کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیب شکایات کی بنیاد پر کارروائی کرنے والا ادارہ ہے اور سیکشن 9 کے تحت کسی بھی بدعنوانی کے بارے میں نیب کی کارروائی کا آغاز تحریری شکایت موصول ہونے پر ہوتا ہے جس کے بعد اس شکایت کی تصدیق اور اس شکایت کے حوالے سے متعلقہ قوانین لاگو کرنے کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ یہ عمل شکایت کی تصدیق کا عمل کہا جاتا ہے۔ اس دوران شکایت کنندہ سے شکایت کی حیثیت اور اس حوالے سے شواہد طلب کئے جاتے ہیں اور جب یہ تعین کرلیا جاتا ہے کہ شکایت کنندہ کی طرف سے لگایا جانے والا الزام نیب کے دائرہ کار کے تحت آتا ہے اور دستیاب دستاویزات اس شکایت کے حوالے سے مزید کارروائی کے لئے کافی ہیں تو اس حوالے سے ضروری کارروائی کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 18 کے تحت کسی بھی جرم کے سرزد ہونے کی تصدیق کے لئے انکوائری اور اس میں ملوث فرد یا افراد کی نشاندہی کے لئے شواہد جمع کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ ریکارڈ/شواہد جمع کرنے کے عمل کے دوران گواہوں اور ملزمان کے بیانات ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔ ملزم کے پاس اس مرحلے پر غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا فائدہ رضاکارانہ طور پر واپس کرنے اور سزا کی صورت میں اپنی ساکھ خراب ہونے اور سرکاری عہدے کے لئے نااہل ہونے سے بچنے کا آپشن موجود ہے۔ یہ سارا عمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں اور علاقائی ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاسوں میں ہر سطح پر ضروری غور و فکر اور جائزہ کے بعد مکمل کیا جاتا ہے۔نیب نے کام کے بوجھ اور میعاد کو متناسب بنایا ہے جس کا مقصد مقدمات کو فعال، مؤثر اور تیز طریقہ سے نمٹانے کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ 10 ماہ کی مدت میں شکایت کی تصدیق سے انکوائری اور پھر تحقیقات اور بالآخر احتساب کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہے۔ انوسٹی گیشن آفیسرز کیلئے ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا ہے اور 10 سال کے وقفہ کے بعد ان پر نظرثانی کی گئی ہے تاکہ سینئر سپروائزری افسران کے تجربہ اور مجموعی دانش سے استفادہ کیا جا سکے۔ ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انوسٹی گیشن آفیسرز اور ایک سینئر لیگل قونصل پر مشتمل ایک سی آئی ٹی سسٹم وضع کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف کام کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا کہ کوئی ایک فرد مقدمات کی کارروائیوں پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ نیب ان اقدامات کے نفاذ اور پراسیکیوشن کے معاملات کی مانیٹرنگ روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ رپورٹس اور معائنوں کے ذریعے کر رہا ہے.ایک بار جب مقدمہ قائم ہو جاتا ہے اور ملزم غلط طریقے سے حاصل کئے گئے مالیاتی وسائل واپس کرنے کے قابل نہیں ہوتا،سیکشن 18(سی) کے تحت تحقیقات تفتیش میں بدل جاتی ہیں تا کہ متعلقہ احتساب عدالت میں ریفرنس/چالان داخل کرنے کے لئے شواہد جمع کرنے کو حتمی شکل دی جا سکے اور سزا دلانے اور اس جرم کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے مالیاتی فوائد ضبط کرنے کے مقصد سے اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔ تفتیش کے دوران ملزم کو جمع کئے گئے شواہد کا سامنا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، ملزم کو اس مرحلہ پر پلی بارگین کا اختیار دیا جاتا ہے تا کہ وہ غیرقانونی طریقے سے حاصل کئے گئے فوائد واپس کر کے مقدمہ کی کارروائی اور قید سے بچ سکے۔ کسی بھی صورت میں اس کی حتمی منظوری کے لئے معاملہ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔نیب کی عملدرآمد کی حکمت عملی کا آغاز کسی مبینہ بدعنوانی کے لئے کسی شخص کو موردالزام ٹھہرائے بغیر حقائق کی تلاش کے نرم اقدام سے ہوتا ہے۔ یہ عمل شکایت کنندہ کے ملزم کے خلاف الزامات کو واضح کرنے کے لئے سادہ وضاحتیں طلب کرنے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تا کہ ٹھوس شواہد اگر کوئی ہوں تو ان کی مدد سے اس کی پوزیشن کی تصدیق کی جا سکے۔ دوسری طرف تحقیقات کے دوران شواہد اکٹھے کرنے کا عمل اور ملزم کی طرف سے دی گئی وضاحتوں کی تصدیق اور گواہوں کے بیانات سے الزامات کی وضاحت ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اگر ملزم کے بیانات ناقابل اطمینان پائے جائیں تو معاملہ اس اختیار کی طرف جاتا ہے کہ ملزم اپنا جرم تسلیم کر لے اور این اے او کے تحت کئے گئے جرم کے نتیجہ کے طور پر حاصل کئے گئے اثاثے رضاکارانہ طور پر واپس کر دے۔ اس مرحلے پر ناکامی اور معقول شواہد کی فراہمی کے ساتھ تفتیش کا عمل آگے بڑھنے کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے لیکن پلی بارگین کا اختیار اسے حاصل رہتا ہے لیکن ہر کوئی سرکاری عہدہ رکھنے یا بینکوں سے مالیاتی سہولت حاصل کرنے کیلئے نااہل ہو جاتا ہے، رضاکارانہ واپسی کو قبول کرنا یا ملزم کی طرف سے پلی بارگین چیئرمین نیب کی صوابدید ہے اور اس کا کسی بھی طریقے سے بطور حق دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔زیادہ سخت مرحلہ اس وقت آتا ہے جب تفتیش کو حتمی شکل دینے کے بعد مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے اور ملزمان احتساب عدالت کی طرف سے بدعنوانی اور بدعنوانی پر مبنی طریقہ کار اختیار کرنے کے الزامات کا سامنا کرتے ہیں یہاں ممکنہ سزائیں جو 14سال قید بامشقت جرمانے کے ساتھ اور ملزم یا اس کے خاندان کے افراد کے نام پر جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطی ہو سکتی ہے دی جاتی ہیں۔ اس مرحلہ پر ملزم اور اس کے خاندان کو ہمہ پہلو نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ معاشرے کے دیگر افراد کے درمیان ذلت کی زندگی ایک نتیجہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اسے سرگرمیوں میں شرکت کیلئے اقتصادی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔نیب (قومی احتساب بیورو) کے آپریشنل آرمز اس کے ریجنل بیورو ہیں جو فیلڈ آپریشنز مثلاً تصدیق، تحقیقات، تفتیش، مقدمات کی کارروائی اور اپیل کے مراحل میں مصروف ہیں۔ نیب ہیڈکوارٹر میں آپریشنز ڈویژن اور پراسیکیوشن ڈویژن اپنی سرگرمیوں کو ہموار طریقے سے چلانے کے لئے قانون اور ایس او پیز کے تحت تمام ضروری مدد فراہم کرتے ہیں۔چیئرمین نیب جناب قمر زمان چوہدری نے این اے او کے تحت اپنے کچھ اختیارات ریجنل ڈائریکٹر جنرلز کو تفویض کر رکھے ہیں تا کہ ان اختیارات کا ضرورت پڑنے پر فوری استعمال کیا جا سکے اور ملک سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ ادارے کے اندر موثر احتساب اور نگرانی پر عملدرآمد کے لئے آپریشنل میٹھڈالوجی اور ایس او پیز رہنما اصول ہیں۔ عملی فیصلہ سازی مشاورتی عمل سے ہو کر گزرتی ہے جس کو ایگزیکٹو بورڈ میٹنگز کہا جاتا ہے اور جن کی صدارت چیئرمین نیب اور پی جی اے کرتے ہیں اور جن میں ہیڈکوارٹر سے سینئر حکام اور ریجنز سے سینئر حکام بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوتے ہیں۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے، مفرور ملزم کے خلاف ریڈنوٹسز کے اجراء، غیرملکی عدالتوں کے دائرہ کار سے باہمی قانونی معاونت کی درخواستوں اور مفرور ملزموں کی ملک بدری سے متعلقہ امور نیب ہیڈکوارٹر میں سرانجام دئیے جاتے ہیں۔ یہ تمام امور بمعہ آپریشنل اختیارات جو ڈیلی گیشنز کے زمرے میں نہیں آتے چیئرمین نیب ادارہ کے آپریشنز اور پراسیکیوشن ڈویژن کی سفارشات پر سرانجام دیتے ہیں۔ انفورسمنٹ سٹرٹیجی بہت کامیاب ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وائٹ کالر کرائمز کی روک تھام اور 278 ارب روپے کی وصولی کی گئی ہے۔ نیب کو 3 لاکھ 21 ہزار 318 شکایات موصول ہوئیں اور ان سب کو قانون کے مطابق نمٹایا گیا۔ نیب نے اپنے قیام سے 7124 انکوائریاں اور 3616 انوسٹی گیشنز کیں جبکہ ملزمان کے خلاف کارروائی کیلئے 2610 کیس متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کئے۔ 16 سال کی مختصر مدت میں نیب کی کارکردگی سزاؤں کے 76 فیصد تناسب کے ساتھ ریکارڈ کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ نیب چیئرمین قمرزمان چوہدری کی قیادت میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کرپشن کے بلاتفریق خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ بدعنوان عناصر کے خلاف دستیاب قابل اعتماد اور ٹھوس ثبوتوں کی بنا پر میرٹ کی بنیاد پر شکایات کی تصدیق، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز شروع کی جاتی ہیں

About BBC RECORD

Check Also

فیصلہ خلاف آئے تو عدلیہ کو بدنام نہ کریں: چیف جسٹس

Share this on WhatsAppپاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے